Friday Sermon (15-Apr-2016)

Salat is it –

How does one fulfil the purpose of worship of God? Islam commands five daily Prayers for this. A Hadith relates that Salat is the core of worship of God. We are fortunate to have accepted the Imam of the age who taught us the correct ways of worship of God, and gave us the wisdom into the requisite of worship. He repeatedly drew attention of his Jama’at to this matter in detail so that we would understand its significance and would adorn our worship of God. God states that He has created man and woman as a couple and has placed delight in their relationship. If procreation was the only objective here, the purpose would not have been fulfilled. God has placed delight for men and women in it. God willed to create human beings and for this He made a connection between man and woman and made it pleasurable, although this became the sole purpose for some foolish. It should be understood in the same vein that there is no burden and levy in worship of God. The Promised Messiah(as) said that it is important to offer Salat while being mindful of its words as well as being mindful of the physical state in which it is offered. Words of Salat correspond with its different postures. The posture when one stands up in Salat and glorifies and praises God is called qiyyam [this Urdu word can also signify ‘to establish’]. The appropriate position to submit glorification and praise is indeed in a standing posture. One reason people give up Salat is also this that when man turns to others besides God his heart and soul is also drawn to that source just as branches of a shrub or tree are trained to grow in a certain direction. His heart develops severity towards God and makes him stony and cold and he cannot change his direction and his heart and soul grow distant from God by the day. This is a dangerous and frightening matter that man should leave God and seek from another. The Promised Messiah(as) said that unless a person completely abides by Unity of God he cannot have love and greatness of Islam instilled in him. And he cannot attain delight and pleasure in Salat. It is all dependent that unless bad, impure intentions and wicked scheming are not incinerated arrogance and conceit will not be removed in order to attain humility and humbleness. In such instance a person cannot be called a true servant of God for the best teacher and most excellent means to impart perfect devotion is Salat alone. Death of Asghari Begum Sahiba, wife of Sheikh Rehmatullah Sahib.

عبادت کی غرض کس طرح پوری ہوتی ہے؟ اس کے لئے اسلام نے ہمیں پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی کا حکم دیا ہے ، ایک حدیث میں ہے کہ نماز عبادت کا مغز ہے، پس اس مغز کو حاصل کر کے ہی ہم عبادت کا مقصد پوراکرسکتے ہیں، ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو ماناہےجنہوں نے ہمیں عبادتوں کے صحیح طریق سکھائے ، ہمیں حکمت سکھائی، اس لئے ہمارے لئے عبادت کرنی بھی ضروری ہے ، بار بار متعدد موقعوں پر اپنی جماعت کو نمازوں کی طرف توجہ دلائی ہے، اس کی تفصیلات بتائیں، اس کی حکمت اور ضرورت بتائی ہےتاکہ ہم نمازوں کی اہمیت کو سمجھیں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو جوڑا پیدا کیا اور مرد کو رغبت دی ہے، اب اس میں زبردستی نہیں بلکہ ایک لذت بھی دکھلائی ، فرمایا خداتعالیٰ کی علت غائی بندوں کا پیدا کرنا تھا اور اس کیلئے ایک تعلق مرد عورت میں قائم کیا اور ضمنا اس میں ایک حد رکھ دیا جو اکثر نادانوں کیلئے مقصود با الذات ہوگیا ، اسی طرح خوب سمجھ لو کہ عبادات میں کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں، اس میں بھی ایک لذت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں سے بالا تر اور بلند ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : یاد رکھو صلوٰۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے یعنی ایسی کیفیت پیدا ہو جو نماز کی حالت ہونی چاہئے اور دوسری یہ بھی احساس ہو کہ انسان اﷲتعالیٰ کے سامنے کھڑا ہے ، بعض دفعہ ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتہ ملتا ہے کہ اس کا منشاء یہ ہے، ایسا ہی صلوٰۃ میں منشاء الٰہی کی تصویر ہے ، نماز کی جو حالتیں ہیں ان میں کیا چاہتا ہے اﷲتعالیٰ انسان سے اس کا تصویری نمونہ قائم کیا گیا ہے ، فرمایا جیسا کہ نماز میں زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے، ایسا ہی اعضاء سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے ، جب انسان کھڑا ہوتا ہے اور تسبیح و تحمید کرتا ہے، اس کا نام قیام رکھا۔ ترک نماز کی عادت اور کسل کی وجہ یہ بھی ہے کیونکہ جب انسان غیر اﷲکی طرف جھکتا ہے تو روح کی طاقتیں اس درخت کی طرح جس کی شاخیں ایک طرف کر دیں جاویں اور وہ اس طرف جھک کر پرورش پالیں ، ادھر ہی جھکتا ہے، خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے ، فرمایا کہ جیسے وہ شاخیں پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتیں اسی طرح دل اور روح دن بدن خدا تعالیٰ سے دور ہوتی جاتی ہے، پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اﷲتعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کاربند نہیں ہوتا ، اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی، نماز کی لذت اور سرور اسے حاصل نہیں ہوسکتا ، مدار اسی پر ہے کہ جب تک برے ارادے ، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں ، انانیت اور دشمنی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے، خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا، فرمایا عبودیت کاملہ کے سکھانے کیلئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہے ، آپؑ نے فرمایا میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خداتعالیٰ سے سچا تعلق قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کاربند ہوجاؤ۔ اصغری بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ رحمت اﷲصاحب کی وفات۔

Check Also

FS-June-21Download